ئی دہلی، 28 اپریل (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کی وارانسی لوک سبھا سیٹ سے الیکشن نہیں لڑنے کو لے کر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے پہلی بار بیان دیا ہے۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ میرے کندھوں پر پوری یوپی میں تشہیر کی ذمہ داری ہے۔ایک نہیں 41 سیٹوں پر پارٹی کو جتانے کا ذمہ ہے، ایک جگہ پر رہ کر ایسا ممکن نہیں تھا۔بتا دیں کہ 28 مارچ کو رائے بریلی میں کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کے لئے تشہیر کرنے پہنچیں پرینکا گاندھی سے جب کارکنوں نے الیکشن لڑنے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے پلٹ کر کارکنوں سے ہی پوچھ لیا کہ وارانسی سے انتخابات لڑو ں کیا؟ پرینکا گاندھی اور کانگریس کارکنوں کے درمیان پوری بات چیت غیر رسمی طور پر تھی۔پرینکا کے اس بیان کے بعد سیاسی گلیارے میں اس بات کی بحث ہونے لگی تھی کہ پرینکا وارانسی سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف الیکشن لڑ سکتی ہیں۔اس بات کو اور طاقت تب ملی تھی جب کانگریس کے ترجمان اور ایم ایل سی دیپک سنگھ نے بھی دعوی کیا تھا کہ پرینکا گاندھی کا وارانسی سے انتخاب لڑنا تقریبا طے ہے۔دیپک سنگھ نے کہا تھا کہ پرینکا نے وارانسی سے انتخاب لڑنے کا من بنا لیا ہے۔ایک دو دن میں بنارس سے نامزدگی کا عمل کو شروع کیا جائے گا لیکن ان کی بات چیت کے درمیان پرینکا مسلسل کہتی رہیں کہ وہ وارانسی سے مودی کے خلاف الیکشن لڑنے کے لئے تیار ہیں، لیکن صرف پارٹی کی ہاں کا انتظار ہے۔پرینکا کے وارانسی سے انتخاب لڑنے کو لے کر ان کے شوہر رابرٹ واڈرا نے بھی کہا تھا کہ پرینکا گاندھی وارانسی سے انتخاب لڑنے کے لئے تیار ہیں،انہیں اب بس پارٹی کی ہاں کا انتظار ہے۔بتا دیں کہ وارانسی لوک سبھا سیٹ ملک کی سب سے وی وی آئی پی سیٹوں میں سے ایک ہے۔ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی 2014 میں اسی سیٹ سے جیت کر پارلیمنٹ پہنچے تھے اور 2019 میں ایک بار پھر وہ اس سیٹ سے قسمت آزما رہے ہیں۔پرینکا کے وارانسی سے انتخاب لڑنے کی بات چیت پر روک 25 اپریل کو لگا جب کانگریس نے اجے رائے کو یہاں سے ٹکٹ دیا. کانگریس نے اس سے پہلے 2014 میں بھی اجے رائے کو امیدوار بنایا تھا، لیکن وہ اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکے تھے۔کانگریس لیڈر سیم پترودا نے پرینکا گاندھی کے وارانسی سے مودی کے خلاف الیکشن نہیں لڑنے کی وجہ صاف کی تھی۔انہوں نے کہا کہ وارانسی سے انتخاب نہیں لڑنے کا فیصلہ خود پرینکا گاندھی کا تھا۔پرینکا گاندھی کے الیکشن نہیں لڑنے کے فیصلے کے سلسلے میں جب صحافیوں نے پوچھا تو پترودا نے بتایا کہ پارٹی صدر (راہل گاندھی) نے الیکشن لڑنے کا حتمی فیصلہ ان کے (پرینکا گاندھی) کے اوپر چھوڑ دیا تھا۔پترودا نے بتایا کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے پاس کئی طرح کی ذمہ داریاں ہیں۔یک سیٹ پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے انہوں نے اپنے ہاتھ میں جو ذمہ داریاں لے رکھی ہیں، اس پر توجہ کریں گی۔پترودا نے کہا کہ اس وجہ سے حتمی فیصلہ پرینکا کا ہی تھا اور انہوں نے الیکشن نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا۔لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش خاص طور سے مشرقی یوپی میں کانگریس کا بیڑا پار کرنے کے لئے پارٹی صدر راہل گاندھی نے اپنی بہن پرینکا گاندھی کو بڑی ذمہ داری دی ہے۔پی ایم مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کے گڑھ کہہ جانے والے پوروانچل کی ذمہ داری پرینکا گاندھی کے ہاتھوں میں ہیں۔پرینکا جن 41 سیٹوں کی بات کر رہی ہیں ان میں سے 26 نشستیں پوروانچل کی ہیں،پارٹی کو ان سے امیدیں ہے۔پارٹی کی توقعات پر رہنے کے لئے پرینکا یوپی میں جم کر تشہیرکر رہی ہیں۔ان کی محنت کتنا رنگ لاتی ہے یہ تو 23 مئی کو ہی معلوم پڑے گا جب انتخابی نتائج آئیں گے۔